صاحب شمع محمدی نے ایک حدیث نقل کی ہے۔
عن عبداللہ بن عمرو قال قال رسول
اللہﷺ لایرجع احد فی ھبۃ الاالوالد من
ولدہ (رواہ النسائی وابن ماجہ۔ مشکوٰۃ کتاب البیوع ص 261 جلد اول)۔
یعنی رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کوئی شخص کسی کو کوئی چیز
ہبہ کر دے بخش دے پھر وہ اسے واپس نہیں لے سکتا۔ سوائے باپ کے کہ وہ اپنی اولاد سے
اپنی ہبہ کی ہوئی چیز واپس لے سکتا ہے۔ اسی کے قریب قریب روایت ابوداؤد اور ترمذی
میں بھی ہے اور امام ترمذیؒ نے اسے صحیح کہا ہے۔ صحیح بخاری شریف میں فرمان رسولﷺ ہے کہ اپنی ہبہ کی ہوئی چیز کو لینے والا
کتے کی طرح ہے جو قے کر کے چاٹ لیتا ہے۔ یہ حدیث صاف ہے کہ ہبہ کی ہوئی چیز کوئی
واپس نہیں لے سکتا۔
اعتراض:
پھر حنفی مذہب پر اعتراض کرتے ہوئے لکھتے ہیں۔
لیکن حنفی مذہب اس حدیث کو نہیں مانا وہ کہتا ہے کہ واپس
لے سکتا ہے۔ چنانچہ حنفی مذہب فقہ کی اعلیٰ اور بہترین کتاب ہدایہ کتاب الہبہ ص 273 میں ہے اذاوھب ھبۃ لا جنبی
فلہ الرجوع فیھا
یعنی جو شخص کسی غیر شخص کو کوئی چیز ہبہ کرے تو اسے حق
ہے کہ اسے واپس لے لے پس حدیث میں تو صاف ہے کہ اپنی ہبہ کی کوئی چیز واپس نہیں لے سکتا۔ اور حنفی مذہب میں صاف ہے کہ اپنی ہبہ کی
ہوئی چیز والس لے سکتا ہے۔ حنفی بھائیو! بتلاؤ اب ایمان کس پر ہے؟ اور کفر کس سے
ہے؟ کیا حدیث کو مان کر فقہ کو چھوڑو گے ؟ یا فقہ کو مان کر حدیث کو چھوڑو گے؟ (شمع
محمدی ص 48، ظفرالمبین ص 207، فتھ المبین علی رد مذاہب المقلدین ص 133، سبیل الرسول ص 278، اختلاف امت
کا المیہ ص 59)۔